کون کہتا ہے فقط زر سے اُلٹ سکتی ہے
تیری دستار مِرے ڈر سے الٹ سکتی ہے
موسیٰ فرعون کے گھر رہ کے پلے ہیں جیسے
تیری فرعونی، تِرے گھر سے الٹ سکتی ہے
ساری دنیا بھی جو بن جائے یزیدی لشکر
یہ سِپہ صرف بہتّر سے الٹ سکتی ہے
تُند رو موج سے بچ بچ کے نکلنے والے
تیری کشتی کبھی اندر سے الٹ سکتی ہے
ٹوکری ایسے بھری ہے کہ نہیں گنجائش
اب تو یہ ایک گلِ تر سے الٹ سکتی ہے
جس کے کردار میں تم کھوئے ہوئے رہتے ہو
وہ کہانی نئے منظر سے الٹ سکتی ہے
عرباض عرضی
No comments:
Post a Comment