Friday, 20 November 2020

غبار دشت فنا میں ٹھہر گئے مرے لوگ

 غبارِ دشتِ فنا میں ٹھہر گئے مرے لوگ

میں دیکھتا ہی رہا اور بکھر گئے مرے لوگ

خوش آ رہی ہے بہت کُوئے رفتگاں کی سیر

کہ رہ گیا ہوں اکیلا، گزر گئے مرے لوگ

نکل کے دیکھ ذرا قصرِ آسمانی سے

ترے جہان میں کتنے ہی مر گئے مرے لوگ

عجیب ہجرتیں اس بار سر پہ آن پڑیں

کہ جانے والے نہیں تھے مگر گئے مرے لوگ

نہ جانے کیا تھا مرے قصہ گو کہانی میں

کہ آگ بجھنے لگی اور ڈر گئے مرے لوگ

میں آپ چھوڑ کے آیا تھا اپنی بستی کو

اور اب یہ پوچھ رہا ہوں کدھر گئے مرے لوگ

میں ناؤ بنتا ہوا ڈوب بھی گیا ہوں تو کیا

یہی بہت ہے کئی پار اتر گئے مرے لوگ


غضنفر ہاشمی

No comments:

Post a Comment