کچھ اس لیے بھی تہِ آسمان مارا گیا
میں اپنے وقت سے پہلے یہاں اتارا گیا
یہ کیسے موڑ پہ لے آیا عمر کا دریا
کہ پہلے ناؤ شکستہ تھی اب کنارا گیا
گزر رہا تھا میں جب آسماں بناتے ہوئے
کہیں سے چاند کہیں سے مرا ستارا گیا
یہ کارِ عمر تو اک کارِ رائیگانی تھا
مگر وہ دن جو تجھے دیکھ کر گزارا گیا
چراغ بجھنے لگا تو ہوا یہ کہنے لگی
کہ اس کے ہاتھ سے اب آخری سہارا گیا
کچھ ایسے خواب مرے گر گئے تھے رستوں میں
سو میں جدھر سے بھی گزرا وہاں دوبارا گیا
غضنفر ہاشمی
No comments:
Post a Comment