Friday, 20 November 2020

محفلیں خواب ہوئیں رہ گئے تنہا چہرے

 محفلیں خواب ہوئیں رہ گئے تنہا چہرے 

وقت نے چھین لیے کتنے شناسا چہرے 

ساری دنیا کے لیے ایک تماشا چہرے 

دل تو پردے میں رہے ہو گئے رسوا چہرے 

تم وہ بے درد کہ مڑ کر بھی نہ دیکھا ان کو

ورنہ کرتے رہے کیا کیا نہ تقاضا چہرے

کتنے ہاتھوں نے تراشے یہ حسیں تاج محل

جھانکتے ہیں در و دیوار سے کیا کیا چہرے

سوئے پتوں کی طرح جاگتی کلیوں کی طرح

خاک میں گم تو کبھی خاک سے پیدا چہرے

خود ہی ویرانئ دل خود ہی چراغ محفل

کبھی محروم تمنا،۔ کبھی شیدا چہرے

خاک اڑتی بھی رہی ابر برستا بھی رہا

ہم نے دیکھے کبھی صحرا کبھی دریا چہرے

یہی امروز بھی،۔ ہنگامۂ فردا بھی یہی

پیش کرتے رہے ہر دور کا نقشہ چہرے

دیپ جلتے ہی رہے طاق پہ ارمانوں کے

کتنی صدیوں سے ہے ہر گھر کا اجالا چہرے

ختم ہو جائیں جنہیں دیکھ کے بیمارئ دل

ڈھونڈ کر لائیں کہاں سے وہ مسیحا چہرے

داستاں ختم نہ ہوگی کبھی چہروں کی جمیلؔ

حسنِ یوسف، تو کبھی عشقِ زلیخا چہرے


جمیل ملک

No comments:

Post a Comment