Friday, 20 November 2020

آؤ پت جھڑ میں کبھی حال ہمارا دیکھو

 آؤ پت جھڑ میں کبھی حال ہمارا دیکھو

خشک پتوں کے سلگنے کا تماشا دیکھو

پاس آ کر مرے بیٹھو مجھے اپنا سمجھو

جب بھی روٹھی ہوئی یادو مجھے تنہا دیکھو

پھول ہر شاخ پہ کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں

کیا تماشا ہے سر نخل تمنا دیکھو

کبھی ہمرنگ زمیں ہے کبھی ہمدوش فلک

کہساروں سے اچھلتا ہوا دریا دیکھو

کھلتی جاتی ہے شفق رنگیٔ خوں تا بہ سحر

شب کے سینے میں جو پیوست ہے نیزہ دیکھو

یوں تو گھر ہی میں سمٹ آئی ہے دنیا ساری

ہو میسر تو کبھی گھوم کے دنیا دیکھو

انہی آنکھوں میں اتر جاتی ہے ہر شام جمیلؔ

انہی آنکھوں سے نکلتا ہے سویرا دیکھو


جمیل ملک

No comments:

Post a Comment