Thursday, 19 November 2020

مجھ کو رکنا نہیں

 مجھ کو رکنا نہیں


جب مجھے روکنا تم کو آتا نہیں

پھر بھی ضد ہے یہی

مجھ کو روکو گی تم

کیسے روکو گی تم؟

مجھ میں احساس کی پاسداری تو ہے، نا شناسی نہیں

میری تنہائی میں

آخری رزم آثار خواہش کا بھی

شائبہ تک نہیں

میں ہوس کے نشاط آفریں عہد میں

گو کہ زندہ تو ہوں

رقتِ جسمِ تخلیق میں قید ہوں

پھر بھی ڈرتا نہیں

جسم کی آخری رزم آثار خواہش سے بھی

مجھ عہدِ ہوس کی وہ تاریخ جس میں شیاطین ہیں

گو کہ زندہ تو ہے

سر اٹھاتی نہیں

اس لیے یہ تمہاری بہکتی نظر

جسم کے زاویے

یہ نشیب و فراز

اور شانوں سے نیچے پھسلتے

ہوا میں بکھرتے ہوئے بال

مجھ کو مری ذات سے کاٹ سکتے نہیں

مجھ کو معلوم ہے

تم نہیں جانتی

لذتوں کا سفر بعد کی بات ہے

پہلے آشوبِ جاں میں

بکھرتی مسافت کا

تازہ لہو میں اترتی ہوئی اجنبیت کا

کوئی تدارک تو ہو

کوئی ایسا تو ہو

جو مری ہاتھ ملتی برہنہ تمناؤں کو

چاہتوں کا لبادہ فراہم کرے

مجھ سے اونچی محبت کی خواہش کرے

مجھ کو معلوم ہے

تم نہیں جانتی

جن کے ہاتھوں میں تاریخ کے باب ہوں

وہ کبھی حسن کی بھینٹ چڑھتے نہیں

حسن ان کی پناہوں میں خود ہی چلا آتا ہے

اس لیے

تم بھی اے جانِ شہرِ گُنہ

خوبرو، جسم آلود سی یہ ادا

بہتے پانی کی پاکیزگی میں اتارو

یہی وقت ہے

آخری وقت ہے

بہتے لمحے گزرنے سے رکتے نہیں

مجھ کو رکنا نہیں

پھر بھی ضد ہے یہی

مجھ کو روکو گی تم

کیسے روکو گی تم؟


سلمان صدیق

No comments:

Post a Comment