کھلی جب آنکھ پسِ دفن، یوں لگا مجھ کو
شبِ وصال نے بانہوں میں بھر لیا مجھ کو
دل و نگاہ پہ، قابو نہیں رہا مجھ کو
میں رودیا ہوں سرِ بزم کیا ہوا مجھ کو
کمالِ دستِ ستم گر ہے، یا عطا اس کی
بتوں میں شیخ نظر آئے ہے خدا مجھ کو
گھرا ہوا تھا رقیبوں کی بھیڑ میں ساقی
اسے خبر نہ ہوئی ورنہ، دیکھتا مجھ کو
شراب ظرف کی مانند پی، نہ زاہد نے
فقیہہِ شہر نے دی ہے مگر سزا مجھ کو
نہ کوئی دوست، نہ ہمزاد ہے، نہ وہم تو پھر
وہ کون ہے، جو پکارے ہے جا بجا مجھ کو
ہر ایک لمحہ، میرا نام چومنے والا
زمانہ شاہ جی مدت سے رو چکا مجھ کو
سہیل اختر
No comments:
Post a Comment