خطِ وجود سے باہر کبھی نکال مجھے
جو میرا اصل جہاں ہے وہاں اچھال مجھے
کشید کر مری سانسوں سے زندگی خود کو
پھر اپنے ہاتھ سے لکھ اپنے خدوخال مجھے
کوئی خیال سا رہتا ہے ہم سفر دل کا
سو اس خیال سے کر دے کبھی نہال مجھے
نظام خانہ بدوشی قبول ہے، لیکن
طلسم حلقۂ خانہ سے بھی نکال مجھے
غضنفر ہاشمی
No comments:
Post a Comment