Thursday, 19 November 2020

اتنا تھا سوز چیخ میں سن کر فقیر آ گئے

 اتنا تھا سوز چیخ میں سن کر فقیر آ گئے

گوندھا ہوا تھا عشق میں دل کا خمیر آ گئے

ہم نے کسی بھی درد سے دل کو بچا تو تھا

لیکن نشانہ ڈھونڈتے (کیا ہے کہ) تیر آ گئے

لو ہم نے چن لیا تمہیں، لو ہم تمہارے ہو لیے

لو موسموں میں مرحلے وہ دلپذیر آ گئے

جِن کو شعور و آگہی، چھو کر کبھی گئی نہیں 

افسوس کا مقام ہے، وہ بھی وزیر آ گئے

بے جرم دھر لیے گئے، تھانے پٹخ دئیے گئے

آئے حوالدار کیا، منکر نکیر آ گئے

مانا کہا تھا جب کبھی دو گے صدا تو آئیں گے

تم نے اشارہ دے دیا، ہو کر اسیر آ گئے

سب سے گناہگار کی فہرست بن رہی ہے آج

درجہ شمار عجیب ہے، پہلے امیر آ گئے

تم نے تو غرق ہونے کے سب انتظام کر دئیے

بیڑا یہ ڈوبنے کو تھا کہ دستگیر آ گئے

ہم نے خیالِ شعر میں حسرتؔ مشاعرہ رکھا

غالب تھے، داغ و مصحفی آخر میں میر آ گئے


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment