Thursday, 19 November 2020

بے وجہ بزم ناز سے ہم کو اٹھا دیا گیا

 بے وجہ بزمِ ناز سے ہم کو اٹھا دیا گیا

طوفان سا گمان کا دل میں جگا دیا گیا

نہلا گیا تھا نور میں یہ شہر پچھلی رات کو

اتنے چراغ جل اٹھے، دو نِیم کا دیا گیا

اس نے خزانہ پا لیا ہم سے بچھڑ کے بِالیقیں

پلکوں پہ ہار سا کوئی گویا سجا دیا گیا 

کچھ بھی ہمارے پاس اب رہنے دیا گیا نہیں 

اک تھا چراغِ آگہی، وہ بھی بجھا دیا گیا

اک اور شخص چل بسا، اک اور موت ہو گئی

دل سے بھی دلپذیر اک منظر ہٹا دیا گیا

ہم نے تو عشق دیو پہ جیون لٹا دیا، مگر

بدلے میں ہم کو دوستو دیکھو تو کیا دیا گیا

قسمت کا سب کِیا دھرا انسان کا گمان کیا

اِس کو بنا دیا گیا، اُس کو مٹا دیا گیا

جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ سب عطائے عشق ہے

ہم سے نہ کوئی بھی کبھی ہرگز صلہ دیا گیا

پِھر اس کے بعد کی ہمیں کچھ بھی خبر نہیں رہی

بس ایک جام سا رشیدؔ ہم کو لا دیا گیا


رشید حسرت

No comments:

Post a Comment