Thursday, 19 November 2020

دور تک کچھ نہیں

 دور تک کچھ نہیں

لیکن دور تک کچھ دکھتا بھی نہیں

دماغ خیال سے خالی ہے

اور خیال بھی خالی ہے

باہر کچھ نہیں

سب اندر ہے

اور اندر کیا ہے

آگ، جو جلا رہی ہے

خیال، جو سلگ رہا ہے

راکھ، کہ سب کچھ جل چکا ہے

پتہ نہیں کیا ہے 

مجھے کچھ علم نہیں

میں بے خبر ہوں

اپنے ہونے سے بھی

اور

اپنے نہ ہو نے سے بھی

میں ہوں، لیکن کہاں ہوں

میں نہیں ہوں، لیکن یہ کیا ہے

حقیقت کچھ نہیں، حق کچھ نہیں

سب خیال ہے

اور خیال خالی ہے

کیونکہ

دماغ خالی ہے

دماغ خالی ہے کیونکہ

دور تک کچھ نہیں

سب خالی ہے


سبوخ سید

No comments:

Post a Comment