دور تک کچھ نہیں
لیکن دور تک کچھ دکھتا بھی نہیں
دماغ خیال سے خالی ہے
اور خیال بھی خالی ہے
باہر کچھ نہیں
سب اندر ہے
اور اندر کیا ہے
آگ، جو جلا رہی ہے
خیال، جو سلگ رہا ہے
راکھ، کہ سب کچھ جل چکا ہے
پتہ نہیں کیا ہے
مجھے کچھ علم نہیں
میں بے خبر ہوں
اپنے ہونے سے بھی
اور
اپنے نہ ہو نے سے بھی
میں ہوں، لیکن کہاں ہوں
میں نہیں ہوں، لیکن یہ کیا ہے
حقیقت کچھ نہیں، حق کچھ نہیں
سب خیال ہے
اور خیال خالی ہے
کیونکہ
دماغ خالی ہے
دماغ خالی ہے کیونکہ
دور تک کچھ نہیں
سب خالی ہے
سبوخ سید
No comments:
Post a Comment