محبت تو بلا کا نام ہے جی
مسلسل التجا کا نام ہے جی
وبا کے دن ہیں اور گردش میں ہیں ہم
در و دیوار ہے اور بام ہے جی
تمہاری ہچکیوں کا میں سبب ہوں
سراسر جھوٹ ہے، الزام ہے جی
چلیں آئیں جھجھک کو چھوڑ دیجے
اگر ہم سے کوئی بھی کام ہے جی
جسے ہم دیکھتے ہیں آئینے میں
وہی چہرہ ہمیں اِلہام ہے جی
انہی کی دِید آنکھوں کی شفا ہے
انہی کو دیکھ کر آرام ہے جی
مسلسل مانگتے ہیں آپ کو ہم
وظیفہ اور دعا ناکام ہے جی
ہماری بات کو سمجھی نہ دنیا
جنوں ہے یا کوئی الہام ہے جی
سحر افطار کرتی آ رہی ہوں
کہ میرا صائمہ ہی نام ہے جی
صائمہ یوسفزئی
No comments:
Post a Comment