Thursday, 19 November 2020

محبت تو بلا کا نام ہے جی

 محبت تو بلا کا نام ہے جی

مسلسل التجا کا نام ہے جی

وبا کے دن ہیں اور گردش میں ہیں ہم

در و دیوار ہے اور بام  ہے جی

تمہاری ہچکیوں کا میں سبب ہوں

سراسر جھوٹ ہے، الزام ہے جی

چلیں آئیں جھجھک کو چھوڑ دیجے

اگر ہم سے کوئی بھی کام ہے جی

جسے ہم دیکھتے ہیں آئینے میں

وہی چہرہ ہمیں اِلہام ہے جی

انہی کی دِید آنکھوں کی شفا ہے

انہی کو دیکھ کر آرام ہے جی

مسلسل مانگتے ہیں آپ کو ہم

وظیفہ اور دعا ناکام ہے جی

ہماری بات کو سمجھی نہ دنیا

جنوں ہے یا کوئی الہام ہے جی

سحر افطار کرتی آ رہی ہوں

کہ میرا صائمہ ہی نام ہے جی


صائمہ یوسفزئی

No comments:

Post a Comment