اے محبت
تیری قسمت
کہ تجھے مفت ملے
ہم سے دانا
جو کمالات کیا کرتے تھے
خشک مٹی کو عمارات کیا کرتے تھے
اے محبت
یہ تیرا بخت
کہ بِن مول ملے
ہم سے انمول
جو ہیروں میں تُلا کرتے تھے
ہم سے منہ زور
جو بھونچال اٹھا رکھتے تھے
اے میری بھاگ بھری
ہم تیرے مجرم ٹھہرے
ہم جو لوگوں سے سوالات کیا کرتے تھے
ہم جو سو باتوں کی اک بات کیا کرتے تھے
تیری تحویل میں آنے سے ذرا پہلے تک
ہم بھی اس شہر میں عزت سے رہا کرتے تھے
ہم بگڑتے تو بہت کام بنا کرتے تھے
اور
اب تیری سخاوت کے گھنے سائے میں
خلقتِ شہر کو ہم زندہ تماشا ٹھہرے
جتنے الزام تھے
مقسوم ہمارا ٹھہرے
اے محبت
ذرا انداز بدل لے اپنا
تجھ کو آئندہ بھی عشاق کا خوں پینا ہے
ہم تو مر جائیں گے
تجھ کو مگر جینا ہے
اے محبت
تیری قسمت
کہ تجھے مفت ملے
حسین مجروح
No comments:
Post a Comment