Thursday, 19 November 2020

اے محبت تیری قسمت کہ تجھے مفت ملے

 اے محبت

تیری قسمت

کہ تجھے مفت ملے

ہم سے دانا

جو کمالات کیا کرتے تھے

خشک مٹی کو عمارات کیا کرتے تھے

اے محبت

یہ تیرا بخت

کہ بِن مول ملے

ہم سے انمول

جو ہیروں میں تُلا کرتے تھے

ہم سے منہ زور

جو بھونچال اٹھا رکھتے تھے

اے میری بھاگ بھری

ہم تیرے مجرم ٹھہرے

ہم جو لوگوں سے سوالات کیا کرتے تھے

ہم جو سو باتوں کی اک بات کیا کرتے تھے

تیری تحویل میں آنے سے ذرا پہلے تک

ہم بھی اس شہر میں عزت سے رہا کرتے تھے

ہم بگڑتے تو بہت کام بنا کرتے تھے

اور

اب تیری سخاوت کے گھنے سائے میں

خلقتِ شہر کو ہم زندہ تماشا ٹھہرے

جتنے الزام تھے

مقسوم ہمارا ٹھہرے

اے محبت

ذرا انداز بدل لے اپنا

تجھ کو آئندہ بھی عشاق کا خوں پینا ہے

ہم تو مر جائیں گے

تجھ کو مگر جینا ہے

اے محبت

تیری قسمت

کہ تجھے مفت ملے


حسین مجروح

No comments:

Post a Comment