زیست کے لبادے میں سر بسر اداسی ہے
عمر بھر کی قیمت بھی عمر بھر اداسی ہے
ہم وفا فروشی سے کافی کچھ کما آئے
کافی کچھ میں بھی لیکن بیشتر اداسی ہے
صرف ایک کونے میں تین چار خوشیاں ہیں
اس سے ہٹ کے کمرہ کیا گھر کا گھر اداسی ہے
یار! اس خرابے میں یہ بھی کم سہولت ہے
فُرقتوں کے جاڑے میں ہمسفر اداسی ہے
نیند سارے خوابوں پر کر نہیں سکی تحقیق
اب تلک جو نکلی ہے خوب تر اداسی ہے
ان صعوبتوں میں بھی دھڑ کا دھڑ رہا سالم
کیوں کہ اس قفس میں بھی اپنے سر اداسی ہے
بیچ کا معمہ تو حل طلب رہے شاید
چاک پر اداسی تھی، دار پر اداسی ہے
ڈھل گئی اداسی میں ہر طویل تر ساعت
پھر بھی ایسا لگتا ہے مختصر اداسی ہے
احمد شہباز
No comments:
Post a Comment