Thursday, 19 November 2020

زیست کے لبادے میں سر بسر اداسی ہے

 زیست کے لبادے میں سر بسر اداسی ہے

عمر بھر کی قیمت بھی عمر بھر اداسی ہے

ہم وفا فروشی سے کافی کچھ کما آئے

کافی کچھ میں بھی لیکن بیشتر اداسی ہے

صرف ایک کونے میں تین چار خوشیاں ہیں

اس سے ہٹ کے کمرہ کیا گھر کا گھر اداسی ہے

یار! اس خرابے میں یہ بھی کم سہولت ہے

فُرقتوں کے جاڑے میں ہمسفر اداسی ہے

نیند سارے خوابوں پر کر نہیں سکی تحقیق

اب تلک جو نکلی ہے خوب تر اداسی ہے

ان صعوبتوں میں بھی دھڑ کا دھڑ رہا سالم

کیوں کہ اس قفس میں بھی اپنے سر اداسی ہے

بیچ کا معمہ تو حل طلب رہے شاید

چاک پر اداسی تھی، دار پر اداسی ہے

ڈھل گئی اداسی میں ہر طویل تر ساعت

پھر بھی ایسا لگتا ہے مختصر اداسی ہے


احمد شہباز

No comments:

Post a Comment