جواز قصۂ وحشت بنانا پڑتا ہے
شبوں کا قرض ہے آخر چکانا پڑتا ہے
یہ دل تو روز پہنچ جائے تیرے پاس یونہی
مگر یہ راہ میں جو اک زمانہ پڑتا ہے
یہ کیا ضرور ہمیشہ کمان ہاتھ میں ہو
کبھی تو خود بھی نشانے پر آنا پڑتا ہے
کوئی یہ سوچ کے آئے میرے قبیلے میں
یہاں دِیے کو ہوا سے جلانا پڑتا ہے
غضنفر ہاشمی
No comments:
Post a Comment