Thursday, 19 November 2020

جواز قصۂ وحشت بنانا پڑتا ہے

 جواز قصۂ وحشت بنانا پڑتا ہے

شبوں کا قرض ہے آخر چکانا پڑتا ہے

یہ دل تو روز پہنچ جائے تیرے پاس یونہی

مگر یہ راہ میں جو اک زمانہ پڑتا ہے

یہ کیا ضرور ہمیشہ کمان ہاتھ میں ہو

کبھی تو خود بھی نشانے پر آنا پڑتا ہے

کوئی یہ سوچ کے آئے میرے قبیلے میں

یہاں دِیے کو ہوا سے جلانا پڑتا ہے


غضنفر ہاشمی

No comments:

Post a Comment