بجلیوں سے کھیلے تو جلا تھا آشیانہ
نہ گلہ ہے دوستوں سے نہ شکایت زمانہ
یہ دور بے حسی کا ہے محبتیں نہیں ہیں
حالات کہہ رہے ہیں تم دل کو نہ جلانا
دلوں کو کھا رہی ہے منافقت کی دیمک
مشکل ہوا ہے یارو! اب آبرو بچانا
وہ خود ہی آ کے سمجھے حالات کے تقاضے
تم اس سے کچھ نہ کہنا، تم اس کو نہ بتانا
کل جس نے آ کے منبر پہ سچ بولنا تھا یارو
یہ جو آج مر گیا ہے، یہ وہی تو تھا دیوانہ
جس کو بھی ہم نے دیکھا مسکرا کے دیکھا
یہ بات تھی زرا سی، جو بن گیا فسانہ
کل گھر میں سج رہی ہے منافقوں کی محفل
جو ہو سکے تو تم بھی سچ بولنے کو آنا
راحیلہ بیگ چغتائی
No comments:
Post a Comment