Thursday, 19 November 2020

بجلیوں سے کھیلے تو جلا تھا آشیانہ

 بجلیوں سے کھیلے تو جلا تھا آشیانہ

نہ گلہ ہے دوستوں سے نہ شکایت زمانہ

یہ دور بے حسی کا ہے محبتیں نہیں ہیں

حالات کہہ رہے ہیں تم دل کو نہ جلانا

دلوں کو کھا رہی ہے منافقت کی دیمک

مشکل ہوا ہے یارو! اب آبرو بچانا

وہ خود ہی آ کے سمجھے حالات کے تقاضے

تم اس سے کچھ نہ کہنا، تم اس کو نہ بتانا

کل جس نے آ کے منبر پہ سچ بولنا تھا یارو

یہ جو آج مر گیا ہے، یہ وہی تو تھا دیوانہ

جس کو بھی ہم نے دیکھا مسکرا کے دیکھا

یہ بات تھی زرا سی، جو بن گیا فسانہ

کل گھر میں سج رہی ہے منافقوں کی محفل

جو ہو سکے تو تم بھی سچ بولنے کو آنا


راحیلہ بیگ چغتائی

No comments:

Post a Comment