Thursday, 19 November 2020

شام کی دھند آج کیوں گہری ہوئی

 انجام


شام کی دھند

آج

کیوں گہری ہوئی

میرے احساس کی رگ رگ میں

یہ نشتر سا لگایا کس نے

دور تک پھیل گیا

شبنمی لمحوں کا غبار

گرم پانی کی مری پلکوں پہ

ہوتی رہتی ہے پھوار

اور مٹی کا بنا میرا وجود

چند لمحوں میں پگھل جاتا ہے


اسلم آزاد

No comments:

Post a Comment