خدایا
ہے کوئی حل اس اداسی کا؟
مسلسل ایک ہی
ماحول سے
اکتا گیا ہوں
نیند سے بیزار آنکھوں میں
ستارے ہیں
بہت سے رنگ ہیں
کئی گم گَشتگاں ہیں
سیڑھیاں ہیں
اے خدا چکرا گیا ہوں
خواہشوں سے
کوئی نعم العبدل بھی تو نہیں ملتا
نگاہیں منظروں میں
کھو گئیں ہیں
ہاتھ خالی ہیں
سبھی محور تمہارے ہیں
تمہی سے آن ملتے ہیں
خلا کے پار جتنے آسماں ہیں
سب میں تُو ہے
میرا کیا ہے
میں کہاں ہوں
سوالِ نارسائی او خدایا
کیا کروں میں
کہاں میں آ گیا ہوں
سلیم شہزاد
No comments:
Post a Comment