Thursday, 19 November 2020

عقل کو بھول جا کچھ دیر تو نادانی کر

 عقل کو بھول جا کچھ دیر تو نادانی کر

مصلحت چھوڑ ذرا عشق میں آسانی کر

تُو مرا ہے تو ذرا دھیان رکھا کر میرا

لے مرے خواب اٹھا ان کی نگہبانی کر

میں نے دانستہ سر بزم تجھے دیکھا ہے

مسکرانے کی ضرورت نہیں، حیرانی کر

پھر محبت نے دیا ہے یہ سنہری موقع

اب تعلق کو نبھا، ربط کو امکانی کر

دل کی مسند پہ ترا نام ہے چسپاں جاناں

اب تذبذب نہ دکھا، بیٹھ جا، سلطانی کر

فرق کیا پڑتا ہے ہر رنگ میں جب تُو ہی ہے

چمپئی رنگ دے یا پھر مجھے تو دھانی کر

ہم بھی اس بار وہ لوٹا تو کہیں گے نصرت

جا، ابھی اور بھٹک، دشت میں گردانی کر


نصرت مہدی

No comments:

Post a Comment