عقل کو بھول جا کچھ دیر تو نادانی کر
مصلحت چھوڑ ذرا عشق میں آسانی کر
تُو مرا ہے تو ذرا دھیان رکھا کر میرا
لے مرے خواب اٹھا ان کی نگہبانی کر
میں نے دانستہ سر بزم تجھے دیکھا ہے
مسکرانے کی ضرورت نہیں، حیرانی کر
پھر محبت نے دیا ہے یہ سنہری موقع
اب تعلق کو نبھا، ربط کو امکانی کر
دل کی مسند پہ ترا نام ہے چسپاں جاناں
اب تذبذب نہ دکھا، بیٹھ جا، سلطانی کر
فرق کیا پڑتا ہے ہر رنگ میں جب تُو ہی ہے
چمپئی رنگ دے یا پھر مجھے تو دھانی کر
ہم بھی اس بار وہ لوٹا تو کہیں گے نصرت
جا، ابھی اور بھٹک، دشت میں گردانی کر
نصرت مہدی
No comments:
Post a Comment