آدھا رستہ
وہ راستہ
اچانک شروع
اچانک ختم ہو جاتا ہے
وہ کچا راستہ
جو اک راجباہ سے شروع ہو کے
اک ٹیلے پر ختم ہو جاتا ہے
اس راستے میں
پیڑ
پیار کی نہ ختم ہونے والی
سرگوشی میں گم ہیں
جیسے عاشق
ہم آغوشی میں گم ہیں
یہاں میں غم روزگار سے
ہٹ کر
تجھے سوچتا ہوں
بے شکل بادلوں میں تجھے
کھوجتا ہوں
دور
شام کے پہاڑ کے عقب میں
سورج
اپنا سندوری رتھ کھولنے لگا ہے
فطرت کی سٹج پر پردۂ شب گرنے کو ہے
ٹیلے کے پار
سب منظر آدھے ہوگئے ہیں
اور میں ترے بغیر
محبت کا آدھا رستہ
آدمی کو پورا کھا جاتا ہے
اجمل صدیقی
No comments:
Post a Comment