Thursday, 19 November 2020

آدھا رستہ

 آدھا رستہ


وہ راستہ

اچانک شروع

اچانک ختم ہو جاتا ہے

وہ کچا راستہ

جو اک راجباہ سے شروع ہو کے

اک ٹیلے پر ختم ہو جاتا ہے

اس راستے میں

پیڑ

پیار کی نہ ختم ہونے والی

سرگوشی میں گم ہیں

جیسے عاشق

ہم آغوشی میں گم ہیں

یہاں میں غم روزگار سے

ہٹ کر

تجھے سوچتا ہوں

بے شکل بادلوں میں تجھے

کھوجتا ہوں

دور

شام کے پہاڑ کے عقب میں

سورج

اپنا سندوری رتھ کھولنے لگا ہے

فطرت کی سٹج پر پردۂ شب گرنے کو ہے

ٹیلے کے پار

سب منظر آدھے ہوگئے ہیں

اور میں ترے بغیر

محبت کا آدھا رستہ

آدمی کو پورا کھا جاتا ہے


اجمل صدیقی

No comments:

Post a Comment