Thursday, 19 November 2020

سرخ گلابوں کے موسم میں بہت بے رنگ سے دن ہیں

 سرخ گلابوں کے موسم میں

بہت بے رنگ سے دن ہیں

ترے گلنار گالوں کے گلابی پھول کھلتے ہیں

نہ تیرے پھول ہونٹوں سے

مِلن کی شوخ باتوں کے سنہری رنگ میں لپٹی

کوئی تتلی ہی اڑتی ہے

نہ دن کے زرد کاغذ پر تری تصویر بنتی ہے

نہ شب کی کالی چادر پر تری آنکھیں چمکتی ہیں

نہ تیری مسکراہٹ کی کِرن ملنے کو آتی ہے

رگوں کے سرد غاروں میں

اداسی جمتی جاتی ہے

ترے گلنار گالوں کے گلابی پھول کھلتے ہیں

نہ تیرے چہرے کے پل پل بدلتے رنگ ملتے ہیں

حریمِ ذات میں جاناں

بہت بے رنگ سے دِن ہیں


شہزاد نیر

No comments:

Post a Comment