اک عہدِ زیاں، خواب سرا ہو گیا مجھ میں
اک اور برس آ کے فنا ہو گیا مجھ میں
یہ کیا کہ میں اڑتا ہی چلا جاتا ہوں اوپر
کیسا یہ دریچہ کوئی وا ہو گیا مجھ میں
پہلے بھی بہت شور سا تھا خون میں لیکن
اس بار تو اک حشر بپا ہو گیا مجھ میں
آباد تھا اک موسمِ ہجراں مرے اندر
پھر یوں بھی ہوا جیسے خلا ہو گیا مجھ میں
اب تیرا کوئی رنگ بھی مجھ پر نہیں کُھلتا
اے شہرِ خرابات، یہ کیا ہو گیا مجھ میں
غضنفر ہاشمی
No comments:
Post a Comment