Wednesday, 18 November 2020

کسی صورت کوئی رستہ نکلنے بھی دیا جائے

 کسی صورت کوئی رستہ نکلنے بھی دیا جائے

گھٹن کو اور اک چہرہ بدلنے بھی دیا جائے

کہیں تنہا میں ساری روشنی لے کر نہ مرجاؤں

مرے اندر سے سورج کو نکلنے بھی دیا جائے

پرندے، خواہشیں، خوشبو، محبت اور تنہائی

کسی کے ساتھ تھوڑی دیر چلنے بھی دیا جائے

پئے تفہیم جاں، سانسیں مسلسل بین کرتی ہیں

سو اس برفاب موسم کو پگھلنے بھی دیا جائے

کہیں ریگِ ملامت رزق بن جائے نہ آنکھوں کا

خدائے نور! اب آنکھوں کو ملنے بھی دیا جائے


غضنفر ہاشمی

No comments:

Post a Comment