کسی صورت کوئی رستہ نکلنے بھی دیا جائے
گھٹن کو اور اک چہرہ بدلنے بھی دیا جائے
کہیں تنہا میں ساری روشنی لے کر نہ مرجاؤں
مرے اندر سے سورج کو نکلنے بھی دیا جائے
پرندے، خواہشیں، خوشبو، محبت اور تنہائی
کسی کے ساتھ تھوڑی دیر چلنے بھی دیا جائے
پئے تفہیم جاں، سانسیں مسلسل بین کرتی ہیں
سو اس برفاب موسم کو پگھلنے بھی دیا جائے
کہیں ریگِ ملامت رزق بن جائے نہ آنکھوں کا
خدائے نور! اب آنکھوں کو ملنے بھی دیا جائے
غضنفر ہاشمی
No comments:
Post a Comment