تُو جو مجھ سے ملول ہے پیارے
زندگانی فضول ہے پیارے
کوئی رو کے، کوئی رُلا کے ہے خوش
اپنا اپنا اصول ہے پیارے
جب تمہیں خود ہی کچھ نہیں احساس
پھر گلہ بے اصول ہے پیارے
ہم نے کیوں اعتبارِ حُسن کیا
"یہ ہماری ہی بھول ہے پیارے"
کیا بنے بات اس جگہ کہ جہاں
بے اصولی اصول ہے پیارے
جس سے حاصل ہو ایک کیفِ خلش
ایسا کانٹا بھی پھول ہے پیارے
کیا سنو گے فسانہ عالم
اس کہانی میں طول ہے پیارے
سید عالم واسطی
No comments:
Post a Comment