Wednesday, 18 November 2020

دوش یہ ہو گیا میرا كہ میں نردوش ہوا

 سورت التوبہ پڑھی، پڑھ كے فراموش ہوا

دوش یہ ہو گیا میرا كہ میں نِردوش ہوا

اسمِ جاں مل نہ سکا، خود سے فراموش ہوا

میری آئی تھی جو میں آپ سے روپوش ہوا

تیری نظروں سے کوئی اور نہ خطا پوش ہوا

دُھت مگر ہوش ہوا، ہوش ہوا، ہوش ہوا

رُخِ تاباں کا جو پوچھا تو کہا چِلمن سے

ضد نہیں دیکھو ادھر، موسیٰ بھی بے ہوش ہوا

بت پرستی بھی کروں، حسرتِ جنت بھی رکھوں

اس تناسب سے تو ابلیس بھی نِردوش ہوا

ساقی اس مدھ بھری آواز پہ قدغن نہ لگا

تُو نے اب ہوش کہا ہے تو مجھے ہوش ہوا

فاضل العشق حسین ابن علی سبطِ نبی

مصرعۂ رِند پہ ہر سیدی مے نوش ہوا

دامنِ یار بھی چھونے نہ دیا، فرمایا

چاک کر دے گا ابھی، دیکھنا پُرجوش ہوا

موت كے بارے جو سنتا ہوں برابر لیکن

میں تری نیم حجابی سے جو مدھ ہوش ہوا

حمزہ پھر نام نہ ہو گا مرا، اللہ کی قسم

تم سے بڑھ کر جو نہ احسان فراموش ہوا

اے حقِ کُن وہ تری اور کوئی صورت تو نہیں

دیکھ کر جس کو مرا عکس بھی مدھ ہوش ہوا

لے اڑا وجد میں آ کر میں غلافِ کعبہ

خلق کہتی ہی رہی ہائے جفا کوش ہوا

دم دما دم ورفعنَا لَکَ ذِکرَک حمزہ 

ڈگمگاتے ہوئے یزدان بھی خاموش ہوا 


حمزہ عمران

No comments:

Post a Comment