پھر سے اک بار خسارا تو نہیں ہو سکتا
سچ کہوں عشق دوبارا تو نہیں ہو سکتا
ہجر اک دائمی دکھ جس کا مداوا نہ کوئی
اور اس دکھ سے کنارا تو نہیں ہو سکتا
یہ محبت ہے یہاں شرک سے بچ کے رہنا
دوسرا شخص گوارا تو نہیں ہو سکتا
آنکھ کے تیل سے یا اپنے لہو سے تُو جلا
یہ دِیا پھر بھی ستارا تو نہیں ہو سکتا
آخرش نیند حقیقت کی رِدا اوڑھے گی
عمر بھر خواب سہارا تو نہیں ہو سکتا
اور بھی لوگوں سے ہوتی ہے ملاقات مگر
تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا تو نہیں ہو سکتا
ہم نے سوچا ہے یہ ارشاد بچھڑ جاتے ہیں
ہاں مگر ایسے گزارا تو نہیں ہو سکتا
ارشاد نیازی
No comments:
Post a Comment