Wednesday, 18 November 2020

پھر سے اک بار خسارہ تو نہیں ہو سکتا

 پھر سے اک بار خسارا تو نہیں ہو سکتا

سچ کہوں عشق دوبارا تو نہیں ہو سکتا

ہجر اک دائمی دکھ جس کا مداوا نہ کوئی

اور اس دکھ سے کنارا تو نہیں ہو سکتا

یہ محبت ہے یہاں شرک سے بچ کے رہنا

دوسرا شخص گوارا تو نہیں ہو سکتا

آنکھ کے تیل سے یا اپنے لہو سے تُو جلا

یہ دِیا پھر بھی ستارا تو نہیں ہو سکتا

آخرش نیند حقیقت کی رِدا اوڑھے گی

عمر بھر خواب سہارا تو نہیں ہو سکتا

اور بھی لوگوں سے ہوتی ہے ملاقات مگر

تجھ سے بڑھ کر کوئی پیارا تو نہیں ہو سکتا

ہم نے سوچا ہے یہ ارشاد بچھڑ جاتے ہیں

ہاں مگر ایسے گزارا تو نہیں ہو سکتا


ارشاد نیازی

No comments:

Post a Comment