Wednesday, 7 June 2023

میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھا

 میرے ہی دل کے ستانے کو غم آیا سیدھا

راستہ دیکھ لیا ہے مِرے گھر کا سیدھا

ایک صُورت کبھی طالع کی نہ دیکھی ہم نے

خط تقدیر لکھا ہے عجب اُلٹا سیدھا

سیدھی سیدھی ہمیں ہر وقت سنا بیٹھتے ہو

نام سن پایا ہے صاحب نے ہمارا سیدھا

ٹیڑھے بانکے ہوئے اس شوخ کے آگے سیدھے

کیا ہی کج فہم ہے وہ جو اسے سمجھا سیدھا

عشق پیچاں کو کیا ہم نے جو آڑا تِرچھا

سرو کو یار نے گلشن میں بنایا سیدھا

خط کے آنے پہ بھی ٹیڑھا ہی رہا وہ ہم سے

خضر نے بھی ہمیں رستہ نہ بتایا سیدھا

مہر! واللہ میں قاتل ہوں تِری باتوں کا

خوب انداز سخن ہے تِرا سیدھا سیدھا


حاتم علی مہر

No comments:

Post a Comment