Wednesday, 7 June 2023

کب مجھے خطرۂ عذاب نہیں

 کب مجھے خطرۂ عذاب نہیں

دل مگر مائلِ ثواب نہیں

مجھ سے محرومیوں کی بات نہ کر

مجھ میں آہ و فغاں کی تاب نہیں

زندگی کا شمار کرتا ہوں

میرے غم کا کوئی حساب نہیں

تم ہی چہرے نہ پڑھ سکے ورنہ

کون تھا جو کُھلی کتاب نہیں

زندگی نام مُسکرانے کا

زندگی رنج و غم کا باب نہیں

عنقریب انقلاب آئے گا

یہ حقیقت ہے کوئی خواب نہیں

یہ سیاست بھی ایک دھوکا ہے

کس قدم پر نیا سراب نہیں

میں نے مانا کہ ہے بُرا کاوش

اس قدر بھی مگر خراب نہیں


محمود احمد کاوش

No comments:

Post a Comment