وہ ایک اجلی صبح تھی، روشن اور منور
ایسے میں اندرونِ شہر کے ایک گمنام مکان کی مکیں
وہ زرد رنگت والی لڑکی
جس کی پلکیں کسی انجانے خوف کے تحت
ہولے ہولے لرز رہیں تھیں
ہاتھ میں ایک سیاہ جلد والی ڈائری لیے کھڑی تھی
جس کے پہلے صفحے پہ تحریر لفظ محبت پہ
سیاہ روشنائی انڈیلی گئی تھی
اس روشنائی کے پھیلتے ہی ایک آنسو اس کے
رخسار پہ لڑھکا تھا
جو زمیں میں جذب ہونے سے پہلے ہی
اس کے گال پہ جامد ہو گیا تھا
یوں جیسے اس کے جذبات بھی اس سیاہ روشنائی
کی لپیٹ میں آ گئے ہوں
اور اسے محبت کی قید سے رہائی مل گئی ہو
اس کا وجود اتنا ہلکا ہو چکا تھا
جتنا روح کے نکل جانے کے بعد ہوتا ہے
محبت اس کے جسم سے نکل کر
اپنے اصل ٹھکانے تک پہنچ گئی تھی
جو محبت جان لیتے ہیں
یہ ان کی جان لیتی ہے
فاکہہ تبسم
No comments:
Post a Comment