موت
بن کے پیغام الٰہی موت آئے گی کبھی
روح تِرے خاکی جسد کو چھوڑ جائے گی کبھی
تُو نے سینے سے لگا رکھی ہے دنیا عمر بھر
لحد کی گودی میں یہ تجھ کو بٹھائے گی کبھی
موت کا منشور سننا ہے تو کر لے انتظار
ایک اور عالم کی بات تجھ کو سنائے گی کبھی
جس فضا میں ہو رہی ہے تیری تجدید حیات
وہ پلٹ کر موت کا پیغام لائے گی کبھی
زندگی جو کچھ دکھا سکتی تھی وہ دکھلا چکی
موت بھی اپنا کمال تجھ کو دکھائے گی کبھی
سانپ اور کیڑے مکوڑے یاں ہیں تیری تاک میں
یہ قبر تیری ہے اور تجھ کو بلائے گی کبھی
ان حقائق میں سحر جو ماورائے زیست ہیں
ایک حقیقت موت ہے اور آ ہی جائے گی کبھی
غلام حسین سحر
No comments:
Post a Comment