سر اٹھا لائیں گے سرکار اٹھا لائیں گے
صرف گھر ہی نہیں گھر بار اٹھا لائیں گے
دوست احباب سبھی لگنے لگیں بے گانے
تم کو ماضی سی بھی بیزار اٹھا لائیں گے
شرم کے مارے اگر سرنہ چھپاتے وہ پھریں
کیا مِرے قتل کو تلوار اٹھا لائیں گے
لوگ کہہ دیں گے کہ لڑکی نئی گھر آئی ہے
جبکہ ہم گھر میں سمن زار اٹھا لائیں گے
باغباں سے جو نہ ہو شرف عقیدت کا سوال
پھول اک کیا، ہمہ گلزار اٹھا لائیں گے
امین الرحمٰن چغتائی
No comments:
Post a Comment