Friday, 7 July 2023

صدا ہماری محیط خلا نہ بن جائے

 صدا ہماری محیطِ خلا نہ بن جائے

عدو کے واسطے یہ بد دعا نہ بن جائے

کسی بشر کی غلامی بہت ضروری ہے

کہیں زمین پہ کوئی خدا نہ بن جائے

ہُوا ہے کربلا اک بار پھر نہ ہونے کو

گھرانہ سارا شہیدِ وفا نہ بن جائے

زباں کو قید کیا ہے فصیلِ دنداں میں

یہ جان کر کہ کسی کا کہا نہ بن جائے

جہاں تک ہو سکے ماحول کا خیال رہے

سموم تا کہ یہ آب و ہوا نہ بن جائے

گزارہ شکل سہی حسن تو مصیبت ہے

خدا کرے کہ کوئی دلرُبا نہ بن جائے

ضیا کو مشورہ ہے اہلِ دل کی جانب سے

کلین شیو رہے،۔ پارسا نہ بن جائے


امین ضیا

No comments:

Post a Comment