تری جس میں خوشی دیکھی وہی اپنی خوشی سمجھے
اسی کو بندگی اپنی اسی کو زندگی سمجھے
دو عالم کی فراغت تیرے کوچہ میں نظر آئی
اسے ہم کیا غلط سمجھے جو جنت کی گلی سمجھے
تبسم کی قسم سوگند تیرے تیر مژگاں کی
اسے پیک اجل اس کو پیام زندگی سمجھے
کسی کو سونپ دی ہم نے متاع زندگی اپنی
جو کچھ اب آگے ہونا ہے وہی جانے وہی سمجھے
خدا شاہد نظر آنے لگے جلوئے خدائی کے
جو ہم یک بارگی اپنا مقام بندگی سمجھے
اسی کے واسطے مخصوص ہے آسائش ساحل
جو طوفاں کے تھپیڑوں سے الجھنا دل لگی سمجھے
رضائے دوست اے محمود! پوشیدہ اسی میں تھی
خوشی کے بدلے ہم غم کو جو مقصود دلی سمجھے
سید ابوالفضل محمود قادری
No comments:
Post a Comment