Friday, 7 July 2023

تری جس میں خوشی دیکھی وہی اپنی خوشی سمجھے

 تری جس میں خوشی دیکھی وہی اپنی خوشی سمجھے

اسی کو بندگی اپنی اسی کو زندگی سمجھے

دو عالم کی فراغت تیرے کوچہ میں نظر آئی

اسے ہم کیا غلط سمجھے جو جنت کی گلی سمجھے

تبسم کی قسم سوگند تیرے تیر مژگاں کی

اسے پیک اجل اس کو پیام زندگی سمجھے

کسی کو سونپ دی ہم نے متاع زندگی اپنی

جو کچھ اب آگے ہونا ہے وہی جانے وہی سمجھے

خدا شاہد نظر آنے لگے جلوئے خدائی کے

جو ہم یک بارگی اپنا مقام بندگی سمجھے

اسی کے واسطے مخصوص ہے آسائش ساحل

جو طوفاں کے تھپیڑوں سے الجھنا دل لگی سمجھے

رضائے دوست اے محمود! پوشیدہ اسی میں تھی

خوشی کے بدلے ہم غم کو جو مقصود دلی سمجھے


سید ابوالفضل محمود قادری 

No comments:

Post a Comment