کہاں سے ڈھونڈ کے لاؤں میں عاجزی کی نظر
کسی نے ڈال تو دی مجھ پہ خودسری کی نظر
خدا کی دَین ہے جس کو دِیا، دِیا اُس نے
نظر یہ عاصی کی ، تو ہے وہ متقی کی نظر
ہے جس کو اپنی ہی گردن کے بال کی نہ خبر
علی السماء ہے دواں اس کی آگہی کی نظر
نہ آدمیت کوئی اب مسئلہ ہے خلقت کا
کہ اب رہی نہیں خالق پہ بندگی کی نظر
ہے دکھ اسی کا کہ تم فرق کر نہیں سکتے
کسی کو لمس کا غم ، میری شاعری کی نظر
ہزار طعن خلاٸق پہ پیار کے دو بول
ہزار دشمنیاں، ایک دلبری کی نظر
میں عشق کر کے خود اپنی نظر سے گر تو گیا
مِرے خدا! نہ پڑے مجھ پہ اب کسی کی نظر
امین الرحمٰن چغتائی
No comments:
Post a Comment