Tuesday, 1 February 2022

خیال میں بھی کبھی جب وہ خوش لباس آئے

 خیال میں بھی کبھی جب وہ خوش لباس آئے

مہکتے پھولوں کی خوشبو بھی آس پاس آئے

وفا محبتوں ایثار کی کتابوں میں

ہمارے پیار کے قصوں میں اقتباس آئے

وفا خلوص ادا حسن زلف اور نغمہ

خدا کرے یہی لہجہ غزل کو راس آئے

عروج دار سبھی کو نہیں ہوا حاصل

نہ جانے کتنے زمانے میں حق شناس آئے

ہمارے عزم نے طوفاں کے رخ بدل ڈالے

مخالفت کی ہوا آ سکے تو پاس آئے

غریب بھوک کی ٹھوکر سے خون خون ہوئے

کسی امیر کو اب تو لہو کی باس آئے


انور کیفی

No comments:

Post a Comment