اس کے آگے پیار کے جذبوں کی آرائش نہ کر
زرد ریگستان میں پھولوں کی افزائش نہ کر
یہ تو ہو سکتا ہے کہ دونوں کی منزل ایک ہو
پھر بھی اس کے ہم سفر ہونے کی فرمائش نہ کر
منحصر اس پر بھی ہے وہ پاس آئے یا نہ آئے
اے مِرے دل قربتوں کی مجھ سے فرمائش نہ کر
ہم نے مانا چاند سا روشن تِرا محبوب ہے
تُو مگر اس چاند کی لفظوں سے پیمائش نہ کر
خود پہ جو نازاں ہے انور تیری چاہت پر نہیں
اس پری پیکر کے آگے دل کی زیبائش نہ کر
انور کیفی
No comments:
Post a Comment