Wednesday, 16 February 2022

اس کے آگے پیار کے جذبوں کی آرائش نہ کر

 اس کے آگے پیار کے جذبوں کی آرائش نہ کر

زرد ریگستان میں پھولوں کی افزائش نہ کر

یہ تو ہو سکتا ہے کہ دونوں کی منزل ایک ہو

پھر بھی اس کے ہم سفر ہونے کی فرمائش نہ کر

منحصر اس پر بھی ہے وہ پاس آئے یا نہ آئے

اے مِرے دل قربتوں کی مجھ سے فرمائش نہ کر

ہم نے مانا چاند سا روشن تِرا محبوب ہے

تُو مگر اس چاند کی لفظوں سے پیمائش نہ کر

خود پہ جو نازاں ہے انور تیری چاہت پر نہیں

اس پری پیکر کے آگے دل کی زیبائش نہ کر


انور کیفی

No comments:

Post a Comment