جسم سے روح بھی جدا کیوں ہے
درمیاں اپنے یہ انا کیوں ہے
زندگی نے دیا نہ کچھ، لیکن
زندہ رہنے کا حوصلہ کیوں ہے
تُو مِری جان روح ہے میری
تُو مِرے جسم سے جدا کیوں ہے
حشر کے دن جگائے جائیں گے
موت کا پھر یہ سلسلہ کیوں ہے
منزلیں ہیں جدا جدا، لیکن
ایک ہی سب کا راستہ کیوں ہے
کیوں رجب چھوڑنا پڑا وہ گھر
ہجرتوں کا یہ سلسلہ کیوں ہے
رجب چوہدری
No comments:
Post a Comment