Wednesday, 16 February 2022

جسم سے روح بھی جدا کیوں ہے

 جسم سے روح بھی جدا کیوں ہے

درمیاں اپنے یہ انا کیوں ہے

زندگی نے دیا نہ کچھ، لیکن

زندہ رہنے کا حوصلہ کیوں ہے

تُو مِری جان روح ہے میری

تُو مِرے جسم سے جدا کیوں ہے

حشر کے دن جگائے جائیں گے

موت کا پھر یہ سلسلہ کیوں ہے

منزلیں ہیں جدا جدا، لیکن

ایک ہی سب کا راستہ کیوں ہے

کیوں رجب چھوڑنا پڑا وہ گھر

ہجرتوں کا یہ سلسلہ کیوں ہے


رجب چوہدری 

No comments:

Post a Comment