Wednesday, 16 February 2022

شہر کی فصیلوں پر زخم جگمگائیں گے

 شہر کی فصیلوں پر زخم جگمگائیں گے

یہ چراغ منزل ہیں راستہ بتائیں گے

پیڑ ہم محبت کے دشت میں لگائیں گے

بے مکاں پرندوں کو دھوپ سے بچائیں گے

زہر جب بھی اگلو گے دوستی کے پردے میں

پتھروں کے لہجے میں ہم بھی گنگنائیں‌ گے

جنگلوں کی جھرنوں کی کاغذی یہ تصویریں

گھر کے بند کمروں میں کب تلک سجائیں گے

خون بن کے رگ رگ میں دودھ ماں کا بہتا ہے

قرض یہ بھی واجب ہے کیسے ہم چکائیں گے

تھک کے لوٹ جائیں گی آندھیاں سیاست کی

جن کی لو رہے قائم وہ دئیے جلائیں گے

یہ جھکی جھکی پلکیں مت اٹھائیے صاحب

جھیل جیسی آنکھوں میں لوگ ڈوب جائیں گے


فاروق انجم

No comments:

Post a Comment