التماس
اپنے آنچل پہ ستاروں سے مِرا نام نہ لکھ
میں تِرا خواب ہوں پلکوں میں سجا لے مجھ کو
میری فطرت ہے محبت کی مچلتی ہوئی لہر
اپنے سینے کے سمندر میں چھپا لے مجھ کو
زندگی چاندنی راتوں کا حسیں روپ لئے
سنگِ مرمر کے جزیروں میں اتر آئی ہے
اک تِرے دست حنائی کو چھؤا ہے جب بھی
سات رنگوں کی فضا ذہن میں لہرائی ہے
تیرے ہنستے ہوئے ہونٹوں کا پگھلتا ہوا لمس
گنگناتا ہے مِری روح کی تنہائی میں
کسی شیشے کسی ساغر کسی صہبا میں کہاں
وہ جو مستی ہے تِرے جسم کی انگڑائی میں
اپنی ابریشمیں زلفوں کے گھنیرے سائے
میری نیندوں کے شبستانوں میں لہرانے دے
مجھ کو ہنستے ہوئے خوابوں کا مقدر بن کر
اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سما جانے دے
پریم واربرٹنی
No comments:
Post a Comment