امن و سکون، چین کی خاطر ترس گئی
دنیا ستمگروں کے شکنجے میں کس گئی
بے تاب ہو کے چار سُو جلنے لگی فضا
شعلوں کی آگ وقت کے پھولوں میں بس گئی
گلشن میں پھول کھلنے کا احساس لُٹ گیا
نفرت کی ہوا چوس کے غنچوں کا رس گئی
ہر سُو پنپ رہی ہے اداسی ہی اداسی
زہریلی رُت بہار کی نکہت کو ڈس گئی
انسانیت، خلوص، محبت کو چھوڑ کر
ارشد ہوس کی حد سے بھی آگے ہوس گئی
ارشد مینا نگری
No comments:
Post a Comment