Wednesday, 7 January 2026

ذہن برگشتہ ہے خلقت کی فراوانی سے

 ذہن برگشتہ ہے خلقت کی فراوانی سے

شہر کے شور کا اک رشتہ ہے ویرانی سے

عیش کوشانِ جہاں اس کا مزا کیا پائیں

مدحتِ لطف و کرم ہوتی ہے ناداری سے

شہر و بازار میں ہے شور کہ مردے جاگے

اک قیامت ہے بپا تیری شناسائی سے

ایک حیرت زدہ عفریت کے مانند یہ عقل

دیکھتی ہے مِرے جذبات کو بیزاری سے

میری چوکھٹ پہ مِرا سایہ مجسم ہو کر

دیکھتا ہے مِرے پندار کو حیرانی سے


حسن امام درد

No comments:

Post a Comment