ذہن برگشتہ ہے خلقت کی فراوانی سے
شہر کے شور کا اک رشتہ ہے ویرانی سے
عیش کوشانِ جہاں اس کا مزا کیا پائیں
مدحتِ لطف و کرم ہوتی ہے ناداری سے
شہر و بازار میں ہے شور کہ مردے جاگے
اک قیامت ہے بپا تیری شناسائی سے
ایک حیرت زدہ عفریت کے مانند یہ عقل
دیکھتی ہے مِرے جذبات کو بیزاری سے
میری چوکھٹ پہ مِرا سایہ مجسم ہو کر
دیکھتا ہے مِرے پندار کو حیرانی سے
حسن امام درد
No comments:
Post a Comment