چاند نگریا دھوکا دے گی شاعر کو معلوم نہ تھا
نظم و غزل کی جوت جلے گی ایسا تو مقسوم نہ تھا
شہرِ ستم میں رہنے والے جانے کہاں روپوش ہوئے
ہاتھ میں سب کے تیغِ ستم تھی جہاں کوئی مظلوم نہ تھا
دل دے کے چاہت پا لینا، چاہت دے کر کربِ جہاں
لیکن وہ نادان نہیں تھا میں بھی کچھ معصوم نہ تھا
لفظوں کی اک بازیگری تھی دیدہ وروں کے جلسے میں
صفحہ صفحہ حرفِ غلط تھا، واضح کوئی مفہوم نہ تھا
دنیا کا دستور جدا ہے، منصف بھی مجبور ہوئے
دل کا لکھا اے راہی صاحب! کاغذ پر مرقوم نہ تھا
ایم کوٹھیاوی راہی
No comments:
Post a Comment