Wednesday, 7 January 2026

میری آنکھوں میں خواب رہنے دو

 میری آنکھوں میں خواب رہنے دو

دشتِ دل میں سراب رہنے دو

دو قدم میرے ساتھ بھی جاناں

واپسی کے عذاب رہنے دو

اس وفا کا جواز پیش کرو

اور سارے حساب رہنے دو

دل کی ساری کتاب پڑھ ڈالو

اور بس ایک باب رہنے دو

زندگی کی کتاب کا یہ باب

اس کو بے انتساب رہنے دو

آؤ ہم چاہتوں کی کاشت کریں

پت جھڑوں کے عذاب رہنے دو

کیا ہرج خواب دیکھنے میں ہے

رتجگوں کے عذاب رہنے دو


طلعت اخلاق احمد

No comments:

Post a Comment