عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یوں تو گرچہ نہیں امکان مدینے میں رہے
"مجھ خطار کار سا انسان مدینے میں رہے"
ہو کرم انﷺ کا تو عاصی کا مقدر جاگے
اور قسمت ہو مہربان مدینے میں رہے
شہرِ طیبہ کو یہ اعزاز رہا ہے حاصل
شمعِ حق کے قدردان مدینے میں رہے
کچھ تو اصحابِ محمدﷺ ہوئے مکے میں مکیں
بن کے کچھ صاحبِ ایمان مدینے میں رہے
میرے سرکارﷺ نے یثرب کو بنایا طیبہ
اور پھر مل کے مسلمان مدینے میں رہے
حسن و اعجاز کے اسرار ہیں اس میں کیونکہ
فخرِ یوسف و سلیمان مدینے میں رہے
اُمتی ہو کے گناہوں میں گرفتار ہیں ہم
کتنے نادم و پشیمان مدینے میں رہے
جب سے آئے ہیں مدینے سے تو لگتا ہے یہی
ہائے دل کے سبھی ارمان مدینے میں رہے
کیوں نہ دل ہو مِرا قربان مدینے پہ صبا
جبکہ وہ خاصۂ خاصان مدینے میں رہے
صبا عالم شاہ
"طرحی مصرعہ/تضمین "مجھ خطار کار سا انسان مدینے میں رہے
اعظم چشتی
No comments:
Post a Comment