فضا کہ ہاتھ میں رکھ کر اُڑان کی خوشبو
بدن پہ لے کہ میں اُترا تھکان کی خوشبو
میں مل رہا ہوں بہت دیر سے زمیں لیکن
پروں سے جاتی نہیں آسمان کی خوشبو
اِدھر عبور کیا پچھلی آزمائش کو
اُدھر سے آئی نئے امتحان کی خوشبو
اُجڑنے والی ہے سبزے کی سلطنت ساری
زمیں اُگلنے لگی ہے مکان کی خوشبو
خدارا گھول دے فانی کو ایسا غزلوں میں
ندی میں گھُلتی ہے جیسے چٹان کی خوشبو
فانی جودھپوری
No comments:
Post a Comment