Sunday, 14 March 2021

اک عمارت نئی تعمیر ہوئی جاتی ہے

 اک عمارت نئی تعمیر ہوئی جاتی ہے

شہر کی اک نئی تفسیر ہوئی جاتی ہے

اے مِرے عزمِ سفر کھینچ کہ لے جا مجھ کو

اک قسم پاؤں کی زنجیر ہوئی جاتی ہے

کھینچنے آئی ہے اب موت مِرے دامن کو

آپ کے خواب کی تعبیر ہوئی جاتی ہے

حد تو یہ ہے کہ مِری ذات کے اندر بھی اب

جا بجا آپ کی جاگیر ہوئی جاتی ہے

میں نے تو خواب سمندر کہ ہی پالے تھے مگر

یہ ندی کس لیے تعبیر ہوئی جاتی ہے

کیا غضب ہے کہ تیرے نام کی تہمت کب سے

بے سبب میرے بغل گیر ہوئی جاتی ہے

پھول کے جسم پہ تتلی کا لہو ہے فانی

کیا مِرے عہد کی تصویر ہوئی جاتی ہے


فانی جودھپوری

No comments:

Post a Comment