Thursday, 18 March 2021

دیکھ بھال کر سنبھل سنبھل کر آتے ہیں

 دیکھ بھال کر سنبھل سنبھل کر آتے ہیں

ہم تک چہرے عمر بدل کر آتے ہیں

جمے ہیں جو چہرے آنکھوں کی کوروں پہ

آؤ ان کو گیت، غزل کر آتے ہیں

جب کرنیں پانی پہ دستک دیتی ہیں

لہروں پہ گرداب اچھل کر آتے ہیں

تم جیسے ہم لگنے لگیں گے ٹھہرو تو

ہم بھی اپنا خون بدل کر آتے ہیں

گلشن سے مجھ تک آنے میں ہوا کے ہاتھ

جانے کتنے پھول مسل کر آتے ہیں

فانی جیسے کچھ چہرے بازاروں میں

اپنی انا ہر روز نِگل کر آتے ہیں


فانی جودھپوری

No comments:

Post a Comment