Saturday, 15 January 2022

اچھا مجھے کرتا ہے میں اچھا نہیں ہوتا

 اچھا مجھے کرتا ہے میں اچھا نہیں ہوتا

پھر ایسا مسیحا تو مسیحا نہیں ہوتا

قسمت کا دھنی تھا میں تبھی جیت لی بازی

ایسا نہیں ہوتا جو میں ایسا نہیں ہوتا

وہ چاک گریباں مرا لوگوں کو دکھاتے

سیتا ہے مگر سوئی میں دھاگہ نہیں ہوتا

چہرے پہ ہر اک دن کے لکھی جاتی ہے تقدیر

سورج کا نکلنا ہی سویرا نہیں ہوتا

لوگوں نے شہاب ایسے دئیے مجھ میں جلائے

اب مجھ کو نظر کا کوئی دھوکا نہیں ہوتا


مصطفیٰ شہاب

No comments:

Post a Comment