شعلۂ خواب بجھا ہے کہ نظر کیا معلوم
کیسے تاریک ہوئی راہگزر کیا معلوم
کوئی انجان سا موسم ہے جو انجان نہیں
کوئی معلوم سا اک دکھ ہے مگر کیا معلوم
جو گزرتی ہے ادھر اس پہ پریشان ہوں میں
مجھ پہ جو بیت گئی ہے وہ ادھر کیا معلوم
اب کسی یاد دریچے سے ہوا آتی نہیں
شاید آتی ہو با اندازِ دگر کیا معلوم
بال و پر میں لیے بے سمت مسافت کی لگن
کن ہواؤں میں رہے گرمِ سفر کیا معلوم
ساون شبیر
No comments:
Post a Comment