Monday, 10 January 2022

پھول نے مرجھاتے مرجھاتے کہا آہستہ سے

 پھول نے مرجھاتے مرجھاتے کہا آہستہ سے

ہو رہی ہے مجھ سے خوشبو بھی جدا آہستہ سے

قربتیں تھیں، پھر بھی لگتا ہے ہمارے درمیاں

آ کے حائل ہو گیا اک فاصلہ آہستہ سے

اک معمہ ہے چمن سے اس پرندے کا سفر

شام کو جو آشیاں سے اڑ گیا آہستہ سے

رکھ لیا ضدی انا نے پھر مِرے سر کا وقار

اونچا نیزے کی انی پر کر دیا آہستہ سے

بہتے بہتے جب روانی میں کمی آئی شہاب

ریت پر سر رکھ کے دریا سو گیا آہستہ سے


مصطفیٰ شہاب

No comments:

Post a Comment