پھول نے مرجھاتے مرجھاتے کہا آہستہ سے
ہو رہی ہے مجھ سے خوشبو بھی جدا آہستہ سے
قربتیں تھیں، پھر بھی لگتا ہے ہمارے درمیاں
آ کے حائل ہو گیا اک فاصلہ آہستہ سے
اک معمہ ہے چمن سے اس پرندے کا سفر
شام کو جو آشیاں سے اڑ گیا آہستہ سے
رکھ لیا ضدی انا نے پھر مِرے سر کا وقار
اونچا نیزے کی انی پر کر دیا آہستہ سے
بہتے بہتے جب روانی میں کمی آئی شہاب
ریت پر سر رکھ کے دریا سو گیا آہستہ سے
مصطفیٰ شہاب
No comments:
Post a Comment